Community
Folklore

شینا: پہاڑوں جیسی بلند، بزرگوں جیسی پرانی زبان کی کہانی

ذرا سوچو۔ صبح گلگت میں آنکھ کھلتی ہے، باہر برف سے ڈھکے پہاڑ، نیچے دریا کی آواز، اور گھر میں نانی کی زبان سے نکلا پہلا لفظ شینا میں۔ یہ ہماری زبان ہے۔ اِسی میں ہم روتے ہوئے بڑے ہوئے، اِسی میں ہنسے، اِسی میں ماں نے لوری سنائی۔ اور آج بھی جب دو گلگتی پردیس میں ملتے ہیں تو پوری دنیا چھوڑ کے بس شینا میں بات کرتے ہیں، جیسے گھر واپس آ گئے ہوں۔
پر کبھی سوچا ہے یہ زبان آئی کہاں سے؟ کتنی پرانی ہے؟ بیٹھو، چائے لو، کہانی سناتا ہوں۔
یہ زبان کوئی کل کی بات نہیں
ہماری شینا دنیا کی اُس قدیم لسانی نسل سے ہے جسے اِنڈو آریان کہتے ہیں، اور خاص طور پر اُس کی ڈارڈک شاخ سے۔ آسان لفظوں میں: یہ اُس بڑے پرانے خاندان کا حصہ ہے جہاں سے برِصغیر کی بہت سی زبانیں نکلیں۔ یعنی جب ہم شینا بولتے ہیں تو کوئی نئی چیز نہیں بولتے، ہم ہزاروں سال پرانی آواز کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
اور یہ صرف گلگت تک نہیں۔ استور، چلاس، دریل، تانگیر، غذر، کوہستان، ہر طرف ہماری زبان گونجتی ہے۔ یہاں تک کہ سرحد پار گریز اور دراس میں بھی ہمارے لوگ یہی زبان بولتے ہیں، چاہے اُن کے اور ہمارے بیچ لکیریں کھینچ دی گئی ہوں۔ آج ہم تقریباً گیارہ لاکھ لوگ یہ زبان بولتے ہیں۔ سوچو، ایک پوری قوم، ایک آواز۔

نام “شینا” آیا کہاں سے؟

یہ سب سے پیاری بات ہے۔ ہماری زبان کا نام ہمارے ہی لوگوں سے آیا۔ جنہیں شِن کہا جاتا ہے، اُنہی کے نام پر زبان کا نام شینا پڑا۔ اور جس دھرتی پر ہم بستے ہیں، اُسے بزرگ شیناکی کہتے تھے: گلگت، چلاس، استور، تانگیر، کوہستان، یہ سب شیناکی۔ دیکھو کتنی خوبصورت بات ہے: ہمارے لوگ شِن، ہماری زبان شینا، ہماری زمین شیناکی۔ تینوں ایک ہی خون کے رشتے میں بندھے ہوئے۔
اور ہماری جڑیں؟ اتنی گہری کہ عقل دنگ رہ جائے۔ ہم اُس ڈارڈ قوم سے ہیں جس کا ذکر دو ہزار سال پرانی کتابوں میں ملتا ہے۔ سنسکرت کی پرانی تحریریں “دَرَدَ” کا نام لیتی ہیں، کشمیر کی مشہور تاریخی کتاب راج ترنگنی میں ہمارا ذکر ہے، یہاں تک کہ قدیم یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس نے بھی ڈارڈ لوگوں کے بارے میں لکھا۔ یعنی جب دنیا کے بڑے بڑے شہر ابھی بس رہے تھے، تب ہمارے بزرگ اِن پہاڑوں پر اپنی زبان بول رہے تھے۔

ہماری زبان کتابوں میں نہیں، سینوں میں زندہ رہی

یہ سن کے فخر بھی ہوگا اور تھوڑی فکر بھی۔ شینا صدیوں تک لکھی نہیں گئی۔ یہ کاغذ پر نہیں، ہمارے لوگوں کے سینوں میں محفوظ رہی۔ نانی کی لوری، بزرگوں کے اقوال، شادیوں کے گیت، نالے کے کنارے گائے جانے والے بول، کہاوتیں جو باپ سے بیٹے تک سفر کرتی رہیں، یہی ہماری اصل کتاب تھی۔
اِس کا رسم الخط تو بس حال ہی میں، 2010 کے بعد، ٹھیک سے مقرر ہوا، جب گلگت بلتستان میں لغات اور قاعدے چھپے۔ مطلب جو کام ہمارے بزرگوں نے اپنی یاد سے سنبھالا، اب ہمیں وہ کاغذ اور اسکرین پر لکھنا ہے، تاکہ ہمارے بچے بھی اِسے اپنی زبان پر محسوس کریں۔

ہر وادی کی اپنی شینا

یہ بات بھی مزیدار ہے۔ چونکہ ہماری وادیاں پہاڑوں نے ایک دوسرے سے کاٹ رکھی تھیں، اِس لیے ہر علاقے نے اپنی اپنی شینا بنا لی۔ گریز والے استوری بولتے ہیں، چلاس کی اپنی، کوہستان کی اپنی۔ اور گلگتی شینا، چونکہ گلگت سب کا مرکز ہے، آج سب سے زیادہ سمجھی جانے والی بن گئی ہے۔ یہ کوئی کمزوری نہیں، یہ ہماری رنگا رنگی ہے۔ ایک زبان، کئی خوشبوئیں۔
اور اب باری ہماری ہے
بزرگوں نے اپنا کام کر دیا۔ اُنہوں نے یہ زبان سینوں میں سنبھال کے ہمیں سونپ دی۔ اب سوال یہ ہے: کیا ہم اِسے اپنے بچوں تک پہنچائیں گے، یا وقت کے ساتھ کھو جانے دیں گے؟
ہر بار جب ہم ایک شینا لفظ لکھتے ہیں، ہم کسی بزرگ کی آواز کو مرنے سے بچا لیتے ہیں۔ ہر بار جب کوئی بچہ یہ زبان سیکھتا ہے، وہ اپنے دادا پردادا سے دوبارہ مل جاتا ہے۔ لرن شینا اِسی لیے ہے: ہماری زبان کے لفظ، جملے اور آوازیں ایک جگہ جمع کرنا، تاکہ یہ ہمیشہ زندہ رہے، اِن پہاڑوں جیسی بلند۔
توم باش، اپنی زبان، اپنی پہچان۔

5 likes 0 Share
Khafi
Khafi
1 articles
View profile

Leave a comment

Support Learn Shina
AboutPrivacyTerms